Showing posts with label POETRY. Show all posts
Showing posts with label POETRY. Show all posts

Thursday, February 25, 2016

نہ خود رہو اداس

ہر رشتے میں یقین رہنے دو؛
 زبان پر ہر وقت مٹھاس رہنے دو؛
 یہی تو انداز ہے زندگی جینے کا؛
 نہ خود رہو اداس،
 نہ دوسروں کو رہنے دو ..

Monday, August 17, 2015

وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ چل


 وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ چل
وقت سے کون کہے یار
ذرا آہستہ چل
گر نہیں وصل تو یہ خوابِ رفاقت ہی ذرا دیر رہے
وقفئہ خواب کے پابند ہیں
جہاں تک ہم ہیں
یہ جو ٹوٹا تو بکھر جائیں گے سارے منظر
(تیرگی ذاد کو سورج ہے فنا کی تعلیم)
ہست اور نیست کے مابین اگر
خواب کا پل نہ رہے
کچھ نہ رہے
وقت سے کون کہے
یار ذرا آہستہ چل

امجد اسلام امجد

زندگی کے میلے میں

زندگی کے میلے میں
خواہشوں کے ریلے میں

تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں

وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے

سخت بے زمینی ہے،
سخت لامکانی ہے

ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی

ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے

بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے

عمر بھر کی باتیں کب
دو گھڑی میں ہوتی ہیں

درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں،

بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں

تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے

بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں

چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ

ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے،

بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو

بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں

گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو

اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے
خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں، نوَا ہیں، ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں سے بھی پھُکتے نہیں
روشنی اور نوَا اور ہوا کے علَم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھُکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نُور ہیں
خواب سُقراط ہیں
خواب منصور ہیں

 

Thursday, August 13, 2015

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر


باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

 کلام  اقبال صاحب 

Wednesday, August 12, 2015

کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں

سمندر کا تماشا کر رہا ہوں
میں ساحل ہو کے پیاسا مر رہا ہوں

اگرچہ دل میں صحرا کی تپش ہے
مگر میں ڈُوبنے سے ڈر رہا ہوں

میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر
شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں

قفس میں مجھ پہ جو بیتی سو بیتی
چمن میں بھی شکستہ پر رہا ہوں

اُٹھے گا حشر کیا محشر میں مجھ پر
میں خود ہنگامہِ محشر رہا ہوں

کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں
میں سچائی کی خاطر مر رہا ہوں

وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
میں جس پتھر کو سجدے کر رہا ہوں

مری گردش میں ہر سازِ الم ہے
جہانِ درد کا محور رہا ہوں

بنائی جو مرے دستِ ہنر نے
اُسی تصویر سے اب ڈر رہا ہوں

تراشے شہر میں نے بخش کیا کیا
مگر میں خود سدا بے گھر رہا ہوں

بخش لائلپوری​

کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے

مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش
میں عادتا سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

عباس تابش

پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر


جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

پتھرو ! آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گذری ہو گی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھہ کو محبت میں بنا رکھا ہے

غم نہیں گل جو کئے گھر کے ہواؤں نے چراغ
ہم نے دل کا بھی دِیا ایک جلا رکھا ہے

پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

حکیم ناصر

زندہ رہیں تو کیا ہے


زندہ رہیں تو کیا ہے
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا


ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
ایک خاک ہے جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا


دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
شام آ گئ اب لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے


کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے


وہ عشق تھا،وہ جنوں تھا
یہ جو ہجر ہے،یہ نصیب ہے


یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟


میں کس سے کہوں میرے ساتھ چل
یہاں سب کے سر پر صلیب ہے


گلہ کریں تو کس سے کریں
جو ہو گیا وہ نصیب ہے


تیرا شہر کتنا عجیب ہے

کوئی ایک شخص تو یوں ملے


اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو
چپ چاپ بکھـرنا ہے ،، تمـاشا نہیں کرنا


کوئی ایک  شخص تو یوں ملے
کے وہ ملے _ تو _ سکون ملے


یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
یہاں سب کے سر پہ صلیب ہے



یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟

Tuesday, August 11, 2015

دلِ ناداں ،تجھے ہوا کیا ہے؟

دلِ ناداں ،تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق ،اور وہ بےزار
یا الٰہی! یہ ماجرا کیا ہے؟
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش! پوچھو کہ" مدّعا کیا ہے"
 
جب کہ تجھ بن نہیں، کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ، اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے؟
نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟
ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟

ہم کو ان سے وفا کی ہے امّید
جو نہیں جانتے، وفا کیا ہے؟
ہاں، بھلا کر، ترا بھلا ہوگا
اَور درویش کی صدا کیا ہے؟
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا ،دعا کیا ہے؟
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے؟

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی


 از مرزا اسد اللہ خان غالب

Sunday, August 09, 2015

کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں

بجھی ہوئی شمع کا دھواں ھوں اور اپنے مرکز کو جا رہا ھوں 
کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں 
تیری ہی صورت کے دیکھنے کو بتوں کی تصویریں لا رہا ھوں 
کہ خوبیاں سب کی جمع کر کے تیرا تصور جما رہا ھوں 
کفن میں خود کو چھپا لیا ھے کہ تجھ کو پردے کی ھو 
نہ زحمت نقاب اپنے لیے بنا کر حجاب تیرا اٹھا رہا ھوں 
ادھر وہ گھر سے نکل پڑے ہیں ادھر میرا دم نکل رہا ہے 
الہی کیسی ہے یہ قیامت وہ آ رہیں ہیں میں جا رہا ہوں 
محبت انسان کی ھے فطرت کہاں ھے امکان ترک الفت وہ اور بھی یاد آ رہے ہیں 
میں ان کو جتنا بھلا رھا ھوں زبان پہ لبیک ہر نفس میں جبیں پہ سجدہ ہے 
ہر قرم پہ یوں جا رہا بت کدے کو ناطق کہ جیسے کعبے کو جا رہا ہوں 
بجھی ہوئی شمع کا دھواں ھوں اور اپنے مرکز کو جا رہا ھوں 
کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں

یہ تیرے نام کے آنسو.

بہت جی چاہتا ہے مَیں ترے شانوں پہ سر رکھ کر بہا ڈالوں وہ سب آنسو. ... 
جو میرے دل کی شریانوں میں چھبتے ہیں اُبلتے ہیں کسی لاوے کی صورت 
اور آنکھوں تک نہیں آتے. کسی آغاز سے پہلے کسی انجام کے آنسو 
ترے ہمراہ سوچی عمر کی اک شام کو آنسو. 
کہیں دشتِ محبت میں نظر کی خوش خیالی کے سنہری دام کے آنسو 
یہ تیرے نام کے آنسو. 
بہا دوں سب ترے شانوں پہ سر رکھ کر تو شاید زندگی کا راستہ پھر سے چراغ آثار ہو جائے. 
اَنا کے قصہء نا مختمم میں ہار کا اقرار ہو جائے یہ دریا فاصلوں کا لمحہ بھر میں پار ہو جائے

Saturday, August 08, 2015

یہ عشق و محبت کی رواییؑت بھی عجیب ھے

یہ عشق و محبت کی رواییؑت بھی عجیب ھے
 پانا بھی نہیں ھے اسے کھونا بھی نہیں ھے
 لپٹا ھے تیرے دل سے کسی راز کی صورت 
وہ شخص کہ جس کو تیرا ھونا بھی نہیں ھے
 جس شخص کی خاطر تیرا یہ حال ھے
 محسن اس نے تیرے مر جانے پر رونا بھی نہیں ھے

Sunday, August 02, 2015

چہرے سے مسکراہٹ

 چہرے سے مسکراہٹ چھن کر کہنا کے مسکرو
پیروں کو زنجیر سے بندہ کر کہنا دوڑ  لگاو
زبان پر تالا لگا کر کہنا بات کرو
دل کو قید کر کے کہنا دل کی بات کرو
سوچوں پر پابندی لگا کر کہنا کس سوچ میں ہو  _ _ _  !

یہ  کیسی قید ہے ، یہ  کیسی زندگی ہے
جس میں سانس چل رہی ہے ، پر زندگی نہیں -
جس میں دل ہیں مگر آرزو نہیں ،
زندگی ہے مگر زندہ نہیں
 دھڑکن ہے مگر دل نہیں




یہ زندگی بھی عجیب شے ہے

یہ زندگی بھی عجیب شے ہے
کے بس ڈھلتی ہی رہتی ہے
کسی کے ملنے یا بکھر جانے سے
اسے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے

یہ بس چلتی رہتی ہے
کسی کے ملنے یہ بچھڑنے سے
اس کو کچھ فرق نہیں پڑتا
یہ بس چلتی ہی جاتی ہے

نہ جانے کیسی تلاش میں
کس منزل کی جستجو میں
اندشوں کی ان دیکھی آگ میں جلتی ہے
خود اپنے ہی ہاتھوں سے گواں دیتی  ہے سب خوشیئں

پھر خود ہی ہاتھ ملتی ہے
ٹھوکر کھا کر گرتی ہے
گر کر پھر سے سمبھلتی ہے
مگر اس کی روانی میں

کبھی کوئی فرق نہیں آتا
یا بس چلتی ہی رہتی ہے 

Thursday, July 09, 2015

محبت گم نہیں ہوتی



محبت گم نہیں ہوتی --- محبت گم نہیں ہوتی یہ بس شکلیں بدلتی ہے کبھی غیروں سے ہوتی ہے کبھی
اپنوں سے ہوتی ہے کبھی مانوس چہروں سے کبی سپنوں سے ہوتی ہے کبھی رنگین خوابوں سے کبھی بیکل خیالوں سے کبھی محبوب کے سارے حوالوں سے کبھی لیلیٰ ، کبھی شیریں ، کبھی سسی کی مورت میں کبھی مجنوں ، کبھی فرہاد اور کبھی پنوں کی صورت میں کبھی تو ساتھہ چلتی ہے کبھی رستے بدلتی ہے کبھی دل میں سماتی ہے کبھی ہر سو یکایک پھیل جاتی ہے یہ ہر موسم ہر اک لمحہ ہمارے گرد ہی موجود رہتی ہے کبھی پل میں سمٹتی ہے کبھی صدیوں میں ڈھلتی ہے محبت گم نھیں ہوتی "یہ بس شکلیں بدلتی ہے

چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

چپکے چپکے جل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
 پُروا سنگ نکل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

آنکھوں آنکھوں چل پڑتے ہيں تاروں کی قنديل لئے
چاند کے ساتھ ہی ڈھل جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

 دل ميں پھول کھلا ديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
 آگ ميں راگ جگاتے ديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
پانی بيچ بتاشہ صورت خود تو گھلتے رہتے

ہيں سم کو شہد بنا ديتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
خواب خوشی کے بو جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے

 زخم دلوں کے دھو جاتے ہيں لوگ محبت کرنے والے
تتلی تتلی لہراتے ہيں پھولوں کی اُمید ليے اک دن خوشبو ہو جاتے
ہيں لوگ محبت کرنے والے بن جاتے ہيں نقش وفا کا لوگ محبت کرنے والے

 جھونکا ہيں بے چين ہوا کا لوگ محبت کرنے والے
جلی ہوئی دھرتی پہ جيسے بادل گھر کے آئيں بستی پر ہيں فضل خدا کا لوگ محبت کرنے والے