Showing posts with label Quotes. Show all posts
Showing posts with label Quotes. Show all posts

Sunday, March 04, 2018

"The Devoted Friend" by P. Craig Russsell.

"The Devoted Friend" by P. Craig Russsell.

"The Devoted Friend" is a darkly comic short story for children by the Irish author Oscar Wilde. It was first published in 1888 in the anthology The Happy Prince and Other Tales, which in addition to its title story also includes "The Nightingale and the Rose", "The Selfish Giant" and "The Remarkable Rocket".

The two main characters in "The Devoted Friend" are a poor man known as little Hans and a rich Miller. The Miller claims to be a devoted friend of little Hans. In truth, he selfishly takes advantage of little Hans at every opportunity. Little Hans always does everything that the Miller asks him to do because he does not want to lose the Miller's friendship or offend him. Little Hans' desire to remain the Miller's friend ultimately proves fatal for him.

Plot

"The Devoted Friend" takes the form of a "story-within-a-story". The main narrative is told to a Water-rat by a Linnet. The Water-rat chastises a Duck for allowing her children to misbehave. When the Duck responds that she is a good parent, the Water-rat says that he knows nothing about family life because he is single. He goes on to say that he is not interested in love but thinks that, "there is nothing in the world either nobler or rarer than a devoted friendship". When the Linnet asks the Water-rat what he would expect of a devoted friend, he replies, "I would expect my devoted friend to be devoted to me". In an attempt to show the Water-rat the foolishness of what he has said, the Linnet tells him the story of little Hans and the Miller.

During the spring, summer and autumn, little Hans makes a living by selling the flowers and fruit from his beautiful garden. During the winter, he struggles to survive. Hugh the wealthy Miller, who owns several cows and sheep in addition to his profitable mill, claims to be a good friend of little Hans. He often goes to see him from spring to autumn, always helping himself to a lot of little Hans' flowers or fruit when he visits him. The Miller never goes to see little Hans during the winter, claiming that he is certain that little Hans would not like to be bothered during that difficult time of year.

 the Miller visits little Hans. He finds out that, in order to have any money for food during the winter, little Hans was forced to sell several of his possessions, including his wheelbarrow. The Miller tells Hans that he will give him his old wheelbarrow, which is in very bad condition with one side completely missing. Hans replies that he can repair the wheelbarrow because he has a plank of wood in his house. The Miller says that the plank is exactly what he needs to fix the hole in the roof of his barn. The Miller goes on to ask Hans to fill a large basket with flowers. The Miller tells Hans that it would be unfriendly to refuse him the flowers or the plank since he has promised him his wheelbarrow.

The following day, the Miller tells little Hans to take a sack of flour to market for him. The next day, he tells Hans to fix his barn roof. The day after that, he tells Hans to drive his sheep to the mountain. Each day, the Miller has another task for little Hans which takes Hans all day to perform. The Miller always tells Hans that it would be unfriendly of him to refuse and reminds him that he has promised to give him his wheelbarrow. Little Hans has no time to tend to the garden which he depends on to make a living.

On a stormy night, the Miller comes to little Hans' house. He says that his son is injured and tells little Hans to fetch the doctor. He refuses to lend Hans his lantern because it is a new one. Again, he reminds little hans that he has promised to give him his wheelbarrow and that it would be unfriendly to refuse to help him. Little Hans follows the doctor back to the Miller's house. However, since Hans does not have a lantern and it is raining so heavily that it is difficult to see, Hans gets lost. He wanders onto the moor and drowns in a pool.

The Miller concludes that little Hans died because he promised to give him his wheelbarrow for free. He says, "I will certainly take care not to give anything away again. One always suffers for being generous".

After having heard the story, the Water-rat says that he feels sorry for the sensitive Miller. The Linnet points out that there is a moral to the story which the Water-rat has failed to understand. The Water-rat is horrified when he finds out that the story was supposed to have a moral and leaves in disgust.

Monday, July 11, 2016

آپ کے بارے میں وہ اہم ترین بات جو آپ کی چھوٹی انگلی کی لمبائی سے پتہ لگایا جاسکتاہے

 
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کو خود ک سمجھنا چاہتے ہیں یا کسی اور کی شخصیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس کیلئے کسی دست شناس یا نجومی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنا ہاتھ پھیلائیے اور اپنی چھوٹی انگلی پر ایک نظر ڈالیے ، آپ کو بہت کچھ معلوم ہو جائے گا ویب سائٹ ویب سائٹ راکٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق کوریا میں کیے گئے شخصیات کے تجزیات میں معلوم ہوا کہ چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی (جسے انگوٹھی والی انگلی بھی کہا جاتا ہے ) کی لمبائی کا تناسب انسانی شخصیت کے بارے میں حیران کن معلومات دیتا ہے دونوں انگلیوں کی لمبائی کاتناسب کچھ یوں ہوسکتا ہے ۔
پہلی صورت :
تصویر Aمیں دکھائے گئے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی لمبائی انگوٹھی والی انگلی کے پہلے جوڑ کے بالکل برابر ہے اس لمبارئی کی چھوٹی انگلی رکھنے والے ذہین اور حصے مزاح سے بھرپور شخصیت کے مالک ہوتے ہیں اور اکثر محفل کو زعفران بنائے رکھتے ہیں یہ لوگ اپنا معافی الزمیر بیان کرنے میں بھی قدرت رکھتے ہیں اور اپنے خیالات اور جذبات دیانتداری کے ساتھ کھل کر بیان کرتے ہیں یہ لوگ اکثر تنہائی سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دوستوں عزیزوں کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھائیں ۔


دوسری صورت:
اگر آپ کا ہاتھ تصویر B میں دکھائے گئے ہاتھ جیسا نظر آتا ہے یعنی چھوٹی انگلی کی لمبائی انگوٹھی والی کے پہلے جوڑ سے زیادہ ہے تو آپ ایک شفیق اور سخی دل کے مالک ہیں اور عموماً آپ کو بھی دوسروں سے محبت اور شفقت ملتی ہے آپ اپنے جذبات کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بوقت ضرورت باآسانی بیان بھی کر سکتے ہیں آپ لڑائی جھگڑے سے دور بھاگتے ہیں اور ہمیشہ ہم آہنگی کیلئے کوشاں رہتے ہیں آپ پر تنقید کرنے والے غالباً آپ کی نرم مزاجی اور امن پسندی کی کوششوں کو سمجھ نہیں پاتے ۔


تیسری صورت:
اگر آپ کی چھوٹی انگلی کی لمبائی انگوٹھی والی انگلی کے پہلے جوڑ سے کم ہے جیسا کہ تصویر C میں دکھایا گیا ہے ، تو آپ اپنے راز اپنے دل میں رکھنے والے شخص اور اکثر اپنے من کی بات کہنا مشکل کرتے ہیں آپ جنہیں پسند کرتے ہیں ان سے بھی اپنے دل کی بات کہنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں دوسروں سے آپ کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن اکثر بعض اوقات مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے آپ دوستوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ان کی مدد کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں آپ کو دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانے میں بہت زیادہ سوچ بچار نہیں کرنی چاہیے اور زندگی کو بھرپور اور پرجوش بنانے کیلئے کوشاں رہنا چاہیے۔



Thursday, February 25, 2016

نہ خود رہو اداس

ہر رشتے میں یقین رہنے دو؛
 زبان پر ہر وقت مٹھاس رہنے دو؛
 یہی تو انداز ہے زندگی جینے کا؛
 نہ خود رہو اداس،
 نہ دوسروں کو رہنے دو ..

Sunday, August 16, 2015

محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے

محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو ہماری یاد کوبھی ساتھ لے لینا سنا ہے اس جزیرے پر کبھی دو ہنس رہتے تھے وہ دونوں ایک دوجے کے دلوں پر راج کرتے تھے وہ اک دوجے کی آنکھوں میں اُترکر خواب چُنتے تھے وفا کے تانے بانے ریشمی باتوں سے بُنتے تھے پھر اس کی روز ہی تجدیدبھی کرتے مگر رُت کے بدلتے ہی ہوا ایسے وہ دونوں مختلف سمتوں میں چل نکلے سُنا ھےپھر کبھی اک ساتھ دونوں کو نہیں دیکھا محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو تواس تنہا شجر کے پاس بھی جانا کہ جس کی ساری شاخوں کے لبادے پر، ہر اک جانب کسی کا نام لکھّا ہے سنا ہے لکھنے والا ،زندگی بھر پھر کبھی کچھ لکھ نہیں پایا وہ اپنی انگلیوں پر خون کی مہریں لگا بیٹھا مقدّر دار کر بیٹھا ۔۔۔وہ خود کو ہار کر،بیٹھا محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو ہماری یاد کو بھی ساتھ لے لینا ہماری یاد تپتی دھوپ میں چھاؤں کی صورت ہے یہ ماضی کے کسی معصوم سے گاؤں کی صورت ہے

Thursday, August 13, 2015

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر


باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

 کلام  اقبال صاحب 

Wednesday, August 12, 2015

کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے

مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش
میں عادتا سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

عباس تابش

کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے


کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
کوئی دوست ہے نہ رقیب ہے
تیرا شہر کتنا عجیب ہے


وہ عشق تھا،وہ جنوں تھا
یہ جو ہجر ہے،یہ نصیب ہے


یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟


میں کس سے کہوں میرے ساتھ چل
یہاں سب کے سر پر صلیب ہے


گلہ کریں تو کس سے کریں
جو ہو گیا وہ نصیب ہے


تیرا شہر کتنا عجیب ہے

کوئی ایک شخص تو یوں ملے


اس درد کی تحویل میں رہتے ہوئے ہم کو
چپ چاپ بکھـرنا ہے ،، تمـاشا نہیں کرنا


کوئی ایک  شخص تو یوں ملے
کے وہ ملے _ تو _ سکون ملے


یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
یہاں سب کے سر پہ صلیب ہے



یہاں کس کا چہرہ پڑھا کروں
میرے کون اتنا قریب ہے؟

Sunday, August 09, 2015

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے ،

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے ،
 جو روح کو تڑپا دے پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے 
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے 
محروم تماشا کو پھر دیدئہ بینا دے 
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
 بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے 
پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے 
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو وہ داغ محبت دے 
جو چاند کو شرما دے رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر خودداری ساحل دے، 
آزادی دریا دے بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے 
احساس عنایت کر آثار مصیبت کا امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے 
میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا تاثیر کا سائل ہوں ، محتاج کو ، داتا دے

کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں

بجھی ہوئی شمع کا دھواں ھوں اور اپنے مرکز کو جا رہا ھوں 
کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں 
تیری ہی صورت کے دیکھنے کو بتوں کی تصویریں لا رہا ھوں 
کہ خوبیاں سب کی جمع کر کے تیرا تصور جما رہا ھوں 
کفن میں خود کو چھپا لیا ھے کہ تجھ کو پردے کی ھو 
نہ زحمت نقاب اپنے لیے بنا کر حجاب تیرا اٹھا رہا ھوں 
ادھر وہ گھر سے نکل پڑے ہیں ادھر میرا دم نکل رہا ہے 
الہی کیسی ہے یہ قیامت وہ آ رہیں ہیں میں جا رہا ہوں 
محبت انسان کی ھے فطرت کہاں ھے امکان ترک الفت وہ اور بھی یاد آ رہے ہیں 
میں ان کو جتنا بھلا رھا ھوں زبان پہ لبیک ہر نفس میں جبیں پہ سجدہ ہے 
ہر قرم پہ یوں جا رہا بت کدے کو ناطق کہ جیسے کعبے کو جا رہا ہوں 
بجھی ہوئی شمع کا دھواں ھوں اور اپنے مرکز کو جا رہا ھوں 
کہ دل کی حسرت تو مٹ چکی ھے اب اپنی ہستی مٹا رہا ھوں

نہیں تو

یہ  غم کیا دل کی عادت ہے؟ 
نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے؟ 
نہیں تو ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر اس کو بھلا دینے کی نیت ہے؟ 
نہیں تو کسی کے بن ،کسی کی یاد کے بن جیئے جانے کی ہمت ہے؟ 
نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ؟ 
ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ 
نہیں تو تیرے اس حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی اس پہ حیرت ہے؟ 
نہیں تو ہم آہنگی نہیں دینا سے تیری تجھے اس پر ندامت ہے؟ 
نہیں تو ہوا جو کچھ یہ ہی مقسوم تھا کیا یہ ہی ساری حکایت ہے ؟
 نہین تو اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو امان پانے کی حسرت ہے ؟
 نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب میں گم تو اس کی وجہ فرصت ہے ؟ 
نہیں تو وہاں والوں سے ہے اتنی محبت یہاں والوں سے نفرت ہے؟ 
نہیں تو سبب جو اس جدائی کا بنا ہے وہ مجھ سے خوبصورت ہے؟ 

یہ تیرے نام کے آنسو.

بہت جی چاہتا ہے مَیں ترے شانوں پہ سر رکھ کر بہا ڈالوں وہ سب آنسو. ... 
جو میرے دل کی شریانوں میں چھبتے ہیں اُبلتے ہیں کسی لاوے کی صورت 
اور آنکھوں تک نہیں آتے. کسی آغاز سے پہلے کسی انجام کے آنسو 
ترے ہمراہ سوچی عمر کی اک شام کو آنسو. 
کہیں دشتِ محبت میں نظر کی خوش خیالی کے سنہری دام کے آنسو 
یہ تیرے نام کے آنسو. 
بہا دوں سب ترے شانوں پہ سر رکھ کر تو شاید زندگی کا راستہ پھر سے چراغ آثار ہو جائے. 
اَنا کے قصہء نا مختمم میں ہار کا اقرار ہو جائے یہ دریا فاصلوں کا لمحہ بھر میں پار ہو جائے

جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں 
وہ نکلے میرے ظلمت خانئہ دل کے مکینوں میں 
کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے
 تو نے اے مجنوں کہ لیلیٰ کیطرح تو خود بھی ہے 
محمل نشینوں میں مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں 
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
 کہ جن کو ڈوبنا ہو ڈوب جاتے
 ہیں سفینوں میں جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفس 
ان کی الہٰی کیا چھپا ہوتا ہے
 اہلِ دل کے سینوں میں تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں 
ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
 نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں
 اپنی آستینوں میں ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
 وہ رونق انجمن کی ہے انہیں خلوت گزینوں میں کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمنِ دل کو
 کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ نشینوں میں محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
 یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں 
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا بہت مدت سے
 چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں خاموش
 اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا ادب پہلا قرینہ ہے
 محبت کے قرینوں میں برا سمجھوں انہیں،
 مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ میں خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں

خوشیاں اور کامیابیاں

خوشیاں اور کامیابیاں اگر دائمی قائمی ہوں تو پھر شاید انسان انسان کی صورت میں زندہ ہی نہ رہ سکے - دکھ سکھ ، کامیابیاں ، ناکامیاں ، محبت نفرت اور جینے مرنے کے تغیر ہی تو اسے استحکام دیتے ہیں - اس کے ارادے مضبوط اور حوصلہ فراخ کرتے ہیں - تدبیر اور تقدیر کے فلسفے کو سمجھنے میں ممد ثابت ہوتے ہیں - اس کے لیئے راہوں اور منزل کا تعین کرتے ہیں

اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں

اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں 
اُداسیوں کا اگر یہ موسم ٹهر گیا تو عذاب کرے گا، 
نہ جی سکو گے نہ مر سکو گے 
نہ کام ہی کوئ کر سکو گے کسی کی ہر پل طلب کرے گا اُداسیاں 
بے سبب نہیں ہیں سنو جو لمحے ہیں آج حاصل، 
انہیں ہمیشہ سنبهال رکهنا وفا کے گلشن میں چاروں جانب بہار رکهنا نکهار رکهنا 
محبت کا وقار لکهنا، 
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں 
جہاں میں کتنے ہی لوگ آے رہے بسے ہیں 
، اجڑ گئے ہیں مگر یہ جذبے ابد سے ہیں، 
اور ازل تک رہیں گے تم اپنی آنکهوں میں 
، پہلے جیسا جال رکهنا اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں 
زرا یہ سوچو بچهڑ گیے تو، کہاں ملیں گے یوں ہی رہیں گی تمام راہیں مگر 
یہ راہی نہ مل سکیں گے بہار میں بهی خزاں کی صورت نہ پهول ہر سمت کهل سکیں گے 
نہ دل کو اپنے اداس رکهنا، 
ہر اک جذبے کا پاس رکهنا 
ملیں گے آخر یہ آس رکهنا 
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں

ریشم

محبت محبت ریشم کی طرح ھے ایک ھی وقت میں نرم اور سکون اور اسی کے ساتھ الجھاوا اور ڈر کھو دینے کا ڈر دوری کا ڈر مگر محبت اتنی خوبصورت اور انمول ھے کہ کم از کم ایک زندگی ایک پوری زندگی آخری سانس تک اسکے بدلے میں دے دی جائے اور اسکے ۔ بعد بھی طلب کا سفر جاری رھے اور جب آپ کی محبت روح کی طلب میں ڈھل جائے تو پھر وہ جسم سے ماورا ھو جاتی ھےاس محبت کے لئے عمر اور وقت کی کوئی قید نہیں مجھے یاد ھے

آنکھی

کچھ باتیں آنکھی دل میں دبی رہ جاتی ہیں

جو کبھی تپش ، کبھی خلش اور کبھی گھوٹن بن کر ہمشہ ستاتی ہیں

پھر یا آنکھی یادیں بن کر تمام  عمر آپ کا پچھا کرتی ہیں -

 

میں تم سے محبت کرتا ہوں

جب میں ایک شفاف آئینہ بن کر تمہارے سامنے کھڑا ہوا تو تم مجھے دیر تک غور سے دیکھتے رہے اور تمہیں مجھ میں اپنی صورت نظر آئی۔ پھر تم نے مجھ سے کہا: ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ لیکن درحقیقت تم نے مجھ میں اپنی ذات سے محبت کی تھی۔

خلیل جبران

اعتماد


محبت اعتماد سے نہیں، اعتماد محبت سے ہوتا ہے۔ محبت ہمیں لوگوں سے جُدا نہیں کرتی۔ ہمیں لوگوں سے جوڑتی ہے۔ ایک محبت ہمارا تعلق اللہ سے جوڑتی ہے۔ جو عشق کہلاتا ہے۔ محبت ہی وفا دیتی ہے اور محبت ہی یقین دیتی ہے۔ محبت ایک ایسا پھول ہے جسکی خوشبو ماحول کو معطر کردیتی ہے۔ محبت یہ نہیں کہ مزاج میں تلخی پیدا کرے بلکہ یہ تو تشنگی کو دور کرتی ہے