لڑکیوں کے خواب کانچ کی مانند ہوتے ہیں .. ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں، شاید اسی لئے قدرت نے لڑکیوں کی فطرت میں خاص وصف رکھا ہے کہ خواب ٹوٹ جائیں تو دنیا تیاگ کے بیٹھتی ہیں، نہ مرتی ہیں، بس جی جاتی ہیں-
Thursday, August 01, 2013
گزرتا ہوا وقت
گزرتا ہوا وقت بھی عجیب چیز ہے، یہ کچھ کے لیئے امید کا پیغام اور کچھ کے لیئے نقارہ تباہی ثابت ہوتا ہے۔
وقت کا سب سے بڑا المیہ یا خوشی یہ ہے کہ یہ رواں دواں رہتا ہے، رکتا نہیں۔
جس دن کی خوشی کے لیئے انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے وہ دن بھی گزر جاتا ہے اور جس گھڑی کے خوف سے انسان ساری زندگی لرزاں رہتا ہے وہ گھڑی بھی گزر جاتی ہے۔
وقت کا سب سے بڑا المیہ یا خوشی یہ ہے کہ یہ رواں دواں رہتا ہے، رکتا نہیں۔
جس دن کی خوشی کے لیئے انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے وہ دن بھی گزر جاتا ہے اور جس گھڑی کے خوف سے انسان ساری زندگی لرزاں رہتا ہے وہ گھڑی بھی گزر جاتی ہے۔
Tuesday, July 30, 2013
یتیم
اللہ نے یتیم کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ہم یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اللہ نے اُسے یتیم ہی کیوں کیا ہے۔ اللہ اُسے خود ہی کیوں نہیں کھانا عطا کرتا۔ شکوک و شبہات کی دنیا میں سوال ابھرتے ہیں۔ یہ کیوں ‘ ایسا کیوں نہیں ‘ ایسے ہونا چاہیے تھا۔
یقین سے محروم انسان صرف سوال ہی کرتا رہتا ہے کہ اللہ نے یہ کیوں کیا ‘ ایسے کیوں نہیں۔ صاحبِ یقین یتیم کو کھانا کھلاتا ہے اور اسے اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔ عقیدے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا‘ اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کا ثبوت اپنی ہی پیشانی میں ذوقِ سجدہ کی شکل میں ملتا ہے۔ اگر ذوقِ جبیں سائی نہ ہو ‘ تو عقیدوں کے محل مسمار ہو جاتے ہیں
ماضی اختیار سے باہر ہوتا ہے
ماضی اختیار سے باہر ہوتا ہے، مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے، حال کا لمحہ انتا اہم ہے کہ اس کے ذریعے ماضی بھی درست ہو سکتا ہے اور مستقبل بھی۔ گنہگار ماضی ، حال کی توبہ کر کے نیک بن جاتا ہے،آنے والے اندیشے حال میں توبہ کرنے سے بہتے ہو سکتے ہیں۔
محبت انسان کو ہمیشہ سفر میں رکھتی ہے
"محبت انسان کو ہمیشہ سفر میں رکھتی ہے، ایک پل کا چین بھی اگر آپ کی رگوں کے نام کر دیا جائے تو آپ کا اپنا اور اپنے محبوب کا نام بھول جائے گا۔ اور ایسے میں پہلی محبت کی موت ہوتی ہے۔ باقی کی محبتیں اپنے انجام سے خوفزدہ، محبت مسلسل فعل ہے اور مسلسل زندگی اور موت۔
اک لمحے کو دہرانا بھی کسی سائے میں بیٹھ کر سستانا بھی، اور آبلے گننا بھی یا صرف اپنے لیے سانس لینا بھی جرم ہے۔"
اشفاق احمد
اک لمحے کو دہرانا بھی کسی سائے میں بیٹھ کر سستانا بھی، اور آبلے گننا بھی یا صرف اپنے لیے سانس لینا بھی جرم ہے۔"
اشفاق احمد
دل درد کا ٹکڑا ہے
دل درد کا ٹکڑا ہے
پتھر کی ڈَلی سی ہے
اِک اَندھا کنواں ہے یا
اِک بند گلی سی ہے
اِک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
میں لاکھ جلاتا ہوں
یہ بھسم نہیں ہوتا
پتھر کی ڈَلی سی ہے
اِک اَندھا کنواں ہے یا
اِک بند گلی سی ہے
اِک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
میں لاکھ جلاتا ہوں
یہ بھسم نہیں ہوتا
Monday, July 29, 2013
زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔
زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔ وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتاہے۔ کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا۔
پھر ہمیں پتا چلتاہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان،بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلامیں تھامے ہوئے ہے۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے۔
پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یانہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے ۔ صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیزپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
تبدیلی
دھمکیوں سے لوگ کبھی اچھے نہیں بنتے‘ تبدیلی محبت کی زمین میں اُگتی ہے۔۔
دل کی آمادگی کے ساتھ پھل پھول دیتی ہے۔۔ انسان کمپیوٹر کے کی بورڈ نہیں
ہوتے کہ جب جو جی چاہا ٹائپ کرلیا۔۔۔۔
کمپیوٹر
دھمکیوں سے لوگ کبھی اچھے نہیں بنتے‘ تبدیلی محبت کی زمین میں اُگتی ہے۔۔
دل کی آمادگی کے ساتھ پھل پھول دیتی ہے۔۔ انسان کمپیوٹر کے کی بورڈ نہیں
ہوتے کہ جب جو جی چاہا ٹائپ کرلیا۔۔۔۔
Subscribe to:
Posts (Atom)