Saturday, March 15, 2014

ﺁﮔﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ


ﺁﮔﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩ

ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔۔ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﭼﮭﺎ ﯾﺎ ﺑﺮﺍ،

ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﺍﺷﺖ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﻮ

ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭨﻮﭨﺎ ﭘﮭﻮﭨﺎ ﻧﻌﻢ ﺍﻟﺒﺪﻝ ﺑﮭﯽ

ﻧﮧ ﻣﻠﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﯾﺎﺩ

ﺑﮭﺎﻟﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔۔"

Thursday, March 13, 2014

میں کس کی خاطر وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں


نہ گُفتگو کا کمال آہنگ
نہ بات کے بے مثال معنی
نہ خال و خد میں وہ جاذبیت
جو جسم و جاں کو اسیر کر لے
نہ مستقل کوئی عکس خواہش
مگر یہ کیا ہے
میں کس کی خاطر
وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں
مسافرت کی نئی کہانی

ایک شعر

میں تو ایک قدم چل کر ہی رُوح تلک تھک جاتی ہوں
سوچتی ہوں تم اپنے آپ سے اِتنا کیسے بھاگتے ہو

کُچھ بھی تو نہیں ویسا

کُچھ بھی تو نہیں ویسا
جیسا تجھے سوچا تھا
جتنا تجھے چاہا تھا
سوچا تھا تیرے لب پر
کُچھ حرف دُعاؤں کے
کُچھ پھُول وفاؤں کے
مہکیں گی مِری خاطر
کُچھ بھی تو نہیں ویسا
جیسا تجھے سوچا تھا
محسوس یہ ہوتا ہے
دُکھ جھیلے تھے جو اَب تک
بے نام مسافت میں
لکھنے کی محبّت میں
پڑھنے کی ضرورت میں
بے سُور ریاضت تھی
بے فیض عبادت تھی
جو خواب بھی دیکھے تھے
ان جاگتی آنکھوں نے
سب خام خیالی تھی
پھر بھی تجھے پانے کی
دل کسی گوشے میں
خواہش تو بچا لی تھی
لیکن تجھے پاکر بھی
اور خود کو گنوا کر بھی
اس حبس کے موسم کی کھڑی سے ہوا آئی
نہ پھول سے خُوشبو کی کوئی بھی صدا آئی
اب نیند ہے آنکھوں میں
ناں دل میں وہ پہلی سی تازہ سخن آرائی
ناں لفظ مِرے نکلے
ناں حرف و معافی کی دانش مِرے کام آئی
نادیدہ رفاقت میں
جتنی بھی اذیت تھی
سب میرے ہی نام آئی
کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا
جتنا تجھے چاہا تھا

کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں

کوئی حرفِ وفا ناں حرفِ سادہ
میں خاموشی کو سُننا چاہتی ہوں
میں بچپن کے کِسی لمحے میں رُک کر
کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں

ورثہ

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں
ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے
سارے درد چُھپا لیتی ہیں
روتے روتے ہنس پڑتی ہیں
ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رو لیتی ہیں
خوشی کی خواہش کرتے کرتے
خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں
سو حصّوں میں بٹ جاتی ہیں
گھر کے دروازے پر بیٹھی
اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں
میں جو گئے دنوں میں
ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی
اب خود بھی تو
عُمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائے
فصل خوشی کی بوتی ہوں
اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں
جانے کیسی رسم ہے یہ بھی
ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں
اپنا مقدّر دے دیتی ہے

دُور جا کر در و دیوار کی رونق سے کہیں

منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
زندگی ایک نیاطرزِ سخن چاہتی ہے
رُوح کے بے سرو سامانی سے باہر آ کر
شاعری اپنے لیے ایک بدن چاہتی ہے
ہر طرف کتنے ہی پھُولوں کی بہاریں ہیں یہاں
پر طبیعتوُہیخوشبوےُ وطن چاہتی ہے
سانس لینے کو بس اِک تازہ ہَوا کا جھونکا
زندگی وہ کہاں سرو و سمن چاہتی ہے
دُور جا کر در و دیوار کی رونق سے کہیں
ایک خاموش سا اُجڑا ہُوا بن چاہتی ہے

ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں

بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
کس کی رسموں کی جلتی ہُوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں
خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیں
جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چُوڑیاں ڈال دیں
ہونٹ پیاسے رہے، حوصلے تھک گئے عُمر صحراہوئی
ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں
موسمِ ہجر کی کیسی ساعت ہے یہ دل بھی حیران ہے
میرے کانوں میں کس نے تری یاد کی بالیاں ڈال دیں

Wednesday, March 12, 2014

کون روک سکتا ہے


کون روک سکتا ہے
لاکھ ضبطِ خواہش کے
بے شمار دعوے ہوں
اُس کو بھُول جانے کے
بے پنہ اِرادے ہوں
اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا
فیصلہ سُنانے کو
کتنے لفظ سوچے ہوں
دل کو اس کی آہٹ پر
برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے
پھر وفا کےصحرا میں
اُس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی
خُوشبوؤں کو چھُونے کی
جستجو میں رہنے سے
رُوح تک پگھلنے سے
ننگے پاؤں چلنے سے
کون روک سکتا ہے
آنسوؤں کی بارش میں
چاہے دل کے ہاتھوں میں
ہجر کے مُسافر کے
پاؤں تک بھی چھُو آؤ
جِس کو لَوٹ جانا ہو
اس کو دُور جانے سے
راستہ بدلنے سے
دُور جا نکلنے سے
کون روک سکتا ہے

خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہم ہے

خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہم ہے
دِل سے سمجھوتہ کرنا سِیکھ لیاہم  ہے