Wednesday, June 03, 2015

موسم بدلنے کا وقت

جس طرح موسم بدلنے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اسی طرح وقت بدلنے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے۔ حالات بدلتے ہی رہتے ہیں، حالات کے ساتھ حالت بھی بدل جاتی ہے۔ رات آجائے تو نیند بھی کہیں سے آہی جاتی ہے۔ وہ انسان کامیاب ہوتا ہے۔ جس نے ابتلا کی تاریکیوں میں امید کا چراغ روشن رکھا۔ امید اس خوشی کا نام ہے جس کے انتظار میں غم کے ایام کٹ جاتے ہیں۔ امید کسی واقعہ کا نام نہیں۔ یہ مزاج کی اک حالت ہے۔
فطرت کے مہربان ہونے پر یقین کا نام امید ہے

امید

کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ 
زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ 
روشنیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشنی سے چیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ طاقت انہیں امید دیتی ہے۔ امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ .

جیسے کالی رات میں سورج کی پہلی ننھی سی کرن کچھ سہمی ہوئی سی آگے بڑھنے سے گھبراتی ہے تو امید کے جگنو اس کے ہاتھ تھام کر اسے بھی اس خوف سے نکال لاتے ہیں۔ پھر اسے دیکھتے دیکھتے سورج کی بہت سی کرنیں اندھیرے کو اجالے میں بدلنے میں اس کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہیں۔ اصل ہمت پہلی کرن کو کرنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ دقت کا سامنا اس پہلی کرن کو کرنا پڑتا ہے، مگر پھر امید کے جگنوؤں کے سہارے یہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس اندھیرے سے اجالے کے سفر میں بہت سی کرنیں اس کی ہم سفر ہوجاتی ہیں۔ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو،

امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی۔

خنجر

آستینوں میں چھپا لیتی ہے خنجر دنیا....
ہم کو اِک چہرے کا تاثر نہ چھپانا آیا....!


خاموشی

کبھی کبھی ہمارے ارد گرد خاموشی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر وہ ہم سے باتیں کرنے لگتی ہے۔۔ عجیب بات ہے نا، خاموشی اور بات چیت تو دو بر خلاف پہلوں ہیں، پھر یہ ایک کیسے ہو جاتی ہیں؟ خاموشی محوِ گفتگو کیسے ہو جاتی ہے۔۔

خاموشی میں انسان کا باطن اُس کے روبرو آ بیٹھتا ہے۔ پھر وہ ہمیں ہمارا اصل دکھاتا ہے، ہم کیا ہیں وہ بتاتا ہے، ہم اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتے ہیں، اس کی امید جگاتا ہے۔۔ لیکن کبھی کبھی وہ آئینہ کی طرح ہمیں ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کی کریہہ صورت دکھا کر ڈراتا بھی ہے۔۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب بہت سے لوگ اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے اس سے خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلتے ہیں۔۔ پھر انہیں فرار کی تلاش ہوتی ہے جو انہیں خود سے بیگانہ کر دے۔ اس کے لیے وہ شور شرابے والی جگہوں کا رُخ کرتے ہوئے ایک ایسے ماحول کا حصہ بننا پسند کرتے ہیں جہاں کوئی خاموشی اُن کا اُن کے باطن سے دوبارہ کبھی متعارف نہ کروائے۔۔

خاموش لوگ خاموش پانیوں کی طرح گہرے ہوتے ہیں، جس میں اُترنا اور انہیں دریافت کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ آسانی سے دوسروں پر آشکار نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذات کو کسی راز کی طرح سنبھالے رکھتے ہیں۔۔ ایسے لوگوں کو دریافت کرنا گوہرِ نایاب ڈھونڈ لانے کے مترادف ہوتا ہے لیکن اس مہم میں نہ جانے کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں۔۔۔

شور دریا سے یہ کہہ رہا ہے سمندر کا سکوت
جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

لیکن کہتے ہیں کہ جب کوئی چیز حد سے بڑھ جائے تو وہ نقصان ہی دیتی ہے۔۔ خاموشی کے جہاں اتنے فوائد اور اہمیت ہے وہیں اگر یہ حد سے بڑھنے لگ جائے تو اس سے لگنے والی کاٹ بڑی گہری ہوتی ہے۔۔۔

خاموشی اگر رشتوں میں در آئے تو سرد مہری بن جاتی ہے۔
لوگوں میں حائل ہو جائے تو غلط فہمیاں پیدا کر دیتی ہے۔
ضرورت کے وقت بھی ترک نہ کی جائے تو کمزوری اور کم علمی بن جاتی ہے۔
حق بات کہنے کے لیے بھی نہ ٹُوٹے تو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر گِرا دیتی ہے۔

خاموشی اس وسیع و عریض کائنات کا ایک خوبصورت گوہر ہے۔۔ایک ایسا گوہر جس کو اگر نگل لیا جائے تو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں لیکن اگر درست استعمال کیا جائے تو آپ کا ظاہر اور باطن دونوں اس کے حُسن سے آراستہ ہو جاتے ہیں۔۔

نظر کی بات ہے.

نظر کی بات ہے.
 جو پریشانیوں میں آسانی اور آسانی میں پریشانی ڈھونڈتی ہے. 
ذرے میں کائنات دیکھتی ہے اور کائنات میں ذرہ کو بھی نہیں دیکھتی.
 آدھے گلاس پانی میں کسی کو آدھا گلاس مکمل، کسی کو آدھا گلاس خالی نظر آتا ہے،
 بات یہاں کہاں ختم ہوتی ہے کسی کو اس میں سیرابی نظر آتی ہے تو کسی کو اس میں پیاس. کوئی اس پر شکر کرتا ہے تو کوئی شکوہ .. سب نظر کی بات ہے نگاہ کی بات ہے ۔

زندگی کے جواز

زندگی کے جوازتلاش نہیں کیے جاتے صرف زندہ رہا جاتا ہے زندگی گذارتے چلے جاؤ جواز مل جائے گا ۔ اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی محبت نہ ملے تو مایوس نہ ہو ، آپ خود ہی کسی سے محبت کرو ۔ کوئی با وفا نہ ملے تو کسی بے وفا سے ہی سہی ۔ محبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لیے جواز دینا ہے ۔ آپ کو انسان نظر نہ آئے تو کسی پودے سے پیار کرو۔
اس کی پرورش کرو، اسے آندھیوں سے بچاؤ ، طوفانوں سے بچاؤ، وھوش و طیور سے بچاؤ، تیز دھوپ سے بچاؤ، زیادہ بارشوں سے بچاؤ۔ اس کو پروان چڑھاؤ۔ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں ، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ کچھ نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایہ ہی عطا کرے گا۔ کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گذارنے کے کام آئے گی۔ آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا ۔اگر آپ کی نگاہ بلند ہونے سے قاصر ہے، تو اپنے پاؤں کے پاس دیکھو۔ کوئی نہ کوئی چیز آپ کی توّجہ کی محتاج ہوگی۔ کچھ نہیں تو محبت کا مارا ہوا کتا ہی آپ کے لیے زندہ رہنے کا جواز مہیا کرے گا

ایک پھول کے لئے پودا کبھی جڑ سمیت نہیں کھینچا جاتا

اکثر اوقات ہم لوگ اپنے رشتے داروں یا بہن بھائیوں کے اتنے نزدیک نہیں ہوتے جتنے ہم اپنے دوستوں کے نزدیک ہوتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے ہر بات شئیر کرتے ہیں حتٰی کے انتہائی سیکرٹ چیزیں بھی شئیر کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ جو بات ہم اپنے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں اپنے ماں باپ سے نہیں شئیر کر سکتے؟ کیا جنریشن گیپ سچ میں حقیقت ہے؟ کیا واقعی میں ہم اپنی نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھا رہے ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں بینک اکاؤنٹ کیا ہوتے ہیں۔ کیسے کھلوائے جاتے ہیں اور ان میں پیسے کیسے جمع کروائے جاتے ہیں اور کیسے نکلوائے جاتے ہیں۔ اگر میں نے اپنے اکاؤنٹ میں کافی پیسے جمع کروا کر رکھے ہیں تو مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا میں جانتا ہوں گا کہ میں اپنی کسی بھی غلطی کا مداوا کرنے کے قابل ہوں۔ اور اگر میرے اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کے برابر ہے یا میں قرضے پر چل رہا ہوں تو مجھے بےحد سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔ کیونکہ ایسی صورت میں میرے پاس کسی قسم کی غلطی یا لچک کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

انسان بھی اسی قسم کے لین دین پر چل رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ اکاؤنٹ ایموشنل اکاؤنٹ کہلاتا ہے۔ اگر میں وعدوں کی پاسداری، صداقت، ایمانداری، خوش اخلاقی اور خوش دلی جمع کرواتا رہوں تو کچھ ہی عرصے میں میرے ایموشنل اکاؤنٹ میں کافی سرمایہ جمع ہو جائے گا۔ لوگوں کا میرے اوپر اعتماد بڑھ جائے گا۔ میں اس اعتماد کا فائدہ بھی اٹھا سکوں گا۔ میں کئی قسم کے تجربات یا غلطیاں کر سکوں گا۔ مگر میرے پر جو آپکا اعتماد ہو گا وہ میری غلطیوں کا مداوا کرے گا۔

لیکن اگر میں آپ سے بدتمیزی کروں۔ بد اخلاقی سے پیش آؤ۔ غیر ضروری طور پر غصہ دکھاؤں۔ آپ کو نظر انداز کرو۔ آپ کو ڈراؤں دھمکاؤں۔ تو پھر یقینی طور پر میرے ایموشنل اکاؤنٹ میں اعتماد کا لیول بہت کم ہو جائے گا اور میں قرض پر چل رہا ہوں گا اور یقیننا میرے پاس غلطی کرنے یا لچک کی گنجائش بالکل نیہں رہ جائے گی۔ مجھے اپنی کہی ہوئی ہر بات کے بارے میں بہت محتاط رہنا پڑے گا۔ میں ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکار رہوں گا۔

اگر اعتماد کا ایک خاص لیول اپنے اکاؤنٹ میں نہ جمع رکھا جائے تو پھر گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ بغیر جانے ہی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس میں ہر فریق اپنے اپنے اسٹائل کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو برائے نام عزت دیتے ہیں۔ تعلقات خراب ہو کر لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتے ہیں۔ بدزبانی کی جاتی ہے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ جذباتی لا تعلقی پیدا ہو جاتی ہے اور آخر میں خود پر رحم کھایا جاتا ہے۔

بعض اوقات آپ کا کوئی بھی رشتہ دار کوئی اہم فیصلہ کم عمری کے باعث غلط کرنے جا رہا ہوتا ہے مگر چونکہ اعتماد کا لیول تباہ ہو چکا ہوتا ہے۔ بات چیت بند ہو چکی ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس فیصلہ کا نتیجہ بے حد بھیانک نکلے۔

اس قسم کی بے حد نازک صورتحال کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں ایموشنل رقم موجود ہو۔

آپ کسی بھی انسان کے اکاؤنٹ میں جو سب سے اہم چیز جمع کروا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ اسے غور سے سنیں۔ بغیر اپنی رائے دیے بغیر کسی قسم کی نصیحت کئیے۔ اور بغیر اپنی مثال دئیے۔ ٓصرف اور صرف اسے توجہ سے سنیں اور اسکو احساس دلائیں کہ آپ اسکو ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں اسکے خیالات کو اسی طرح اہمیت دیتے ہیں اور انکی قدر کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔

یاد رکھئیے
ایک پھول کے لئے پودا کبھی جڑ سمیت نہیں کھینچا جاتا

Monday, June 01, 2015

i m Employee

i m Employee
You are Boss
i m working
You are Owner
i m girl 
You are man
You do what you want
i cannot do even if i really want

~a.qureshi~

برقرار رہے

انڈسٹریوں اور فکتریوں کی مالک نہیں ہوں میں -
نہ ہی کوئی جاگر ہے میری -
ایک نوکری پیشہ ہوں -
یہ شاندار آفس ، معاشرے میں با عزت  نام محنت سے حاصل کیا ہے میں نے -
کسی نے پیار اور محبت میں نہیں دیا  یہ سب کچھ -
اور نہ ہی مکاری سا یہ سب کچھ حاصل کیا ہے
محنت کر کے یہاں تک پونچھی ہوں میں -
اور یہ سب کچھ برقرار رہے ، اس کے لیے اور محنت کرنی ہو گی مجھے 

Sunday, May 31, 2015

لفظ بار بار دہرائے جانے سے ...

لفظ بار بار دہرائے جانے سے طلسم بن جاتے ہیں
لفظ بار بار دہرائے جانے سے سننے والا ہپناٹائز ہو جاتا ہے
لفظ بار بار دہرائے جانے سے ان کی مخفی قوتیں انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتی ہیں، اور وہی کچھ ہونے لگتا ہے جو کہا جا رہا ہوتا ہے۔ لفظ صرف روشنائی کے چند نشان یا ہوا کی چند متحرک لہروں کا نام نہیں ، لفظ تو زندہ اور متحرک قوت کا نام ہے۔ اس کی بڑی تاثیر ہے، اس کا بڑا اختیار ہے،
شاید اسی لئے ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ جو کہو سوچ سمجھ کر کہو جب کرو خیر کی بات کرو ۔ پتہ نہیں کب زبان سے نکلنے والے لفظ سچ ثابت ہو جائیں