Sunday, August 31, 2014

اسپین میں مسلمانوں کے آخری مسلم حکمران

استرداد (ہسپانوی:Reconquista اور انگریزی: Reconquest) عیسائیوں کی ساڑھے سات سو سال طویل ان کوششوں کو کہا جاتا ہے جو انہوں نے جزیرہ نما آئبیریا سے مسلمانوں کو نکالنے اور ان کی حکومت کے خاتمے کے لئے کیں۔ 8 ویں صدی میں بنو امیہ کے ہاتھوں اسپین کی فتح کے بعد
استرداد کا آغاز 722ء میں معرکہ کوواڈونگا سے جبکہ اختتام 1492ء میں سقوط غرناطہ کے ساتھ ہوا۔

محمد بن الاحمر 1236ء میں کی زیر قیادت اسپین میں مسلمانوں کے آخری مضبوط گڑھ غرناطہ کو قشتالہ کے فرڈیننڈ سوم کے ہاتھوں شکست ہوئی اور غرناطہ اگلے 250 سالوں تک عیسائی سلطنت کا باجگذار بنا رہا۔ 2 جنوری 1492ء کو آخری مسلم حکمران ابو عبداللہ محمد نے فرڈیننڈ اور ملکہ آئزابیلا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ جس کے نتیجے میں متحدہ رومن کیتھولک قوم وجود میں آئی۔
پرتگیزی استرداد 1249ء میں افونسو سوم کی جانب سے الغرب کی شکست کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

Mosque Córdoba - Catholic Church

 


 Abd al-Rahman decided to raise his great mosque. He offered to buy the church and the plot from the conquered people. The negotiations for the sale were placed in the hands of the Sultan's favourite secretary, Umeya ibn Yezid. Under the terms of the transfer, the Cordovese were permitted to reconstruct the church formerly dedicated to St Faustus, St Januarius, and St Marcellus, three Christian martyrs whom they deeply revered.[10]
Abd al-Rahman I allowed the Christians to rebuild their ruined churches and purchased the Christian half of the church of St Vincent.[11][12] The Caliph was rich. Apart from the treasure wrested from the Goths during the recent wars, he also extracted a tithe upon the produce of the land and on manufactures. Muslims in Andalusia were obliged to pay the tax of Zakah and a tax kown as Jizya was also laid upon every Christian and Jew in Andalusia in return they would receive a covenant of security from foreign invaders. Beyond this, the Moorish kings were greatly enriched by the acquisition of the valuable mines of Iberia, the quarries of marble, and other sources of wealth. From these revenues Abd al-Rahman and his successors, Hisham, Abd-erRahman II, the greatest of the dynasty and the third of the line, and lastly the extravagant Almanzor, lavished large sums upon the designing, construction, and costly adornment of the Mosque.[10] Abd al-Rahman I and his descendants reworked the building over the following two centuries to fashion it as a mosque, starting in 784. Additionally, Abd al-Rahman I used the mosque (originally called Aljama Mosque) as an adjunct to his palace and named it in honour of his wife. Traditionally, the mihrab (or apse) of a mosque faces in the direction of Mecca; by facing the mihrab, worshipers pray towards Mecca. Mecca is east-southeast of the mosque, but the mihrab of this mosque unusually points south.[13]
The work of building the resplendent Mezquita employed thousands of artisans and labourers, and such a vast undertaking led to the development of all the resources of the district. Hard stone and beautifully veined marbles were quarried from the Sierra Morena and the surrounding regions of the city. Metals of various kinds were dug from the soil, and factories sprang up in Cordova amid the stir and bustle of an awakened industrial energy. A famous Syrian architect made the plans for the Mosque. Leaving his own house on the edge of Cordoba, the Caliph came to reside in the city, so that he might personally superintend the operations and offer proposals for the improvement of the designs. Abd-er-Rahman moved about among the workers, directing them for several hours of every day.[10]
The mosque underwent numerous subsequent changes: Abd al-Rahman II ordered a new minaret, while in 961 Al-Hakam II enlarged the building and enriched the Mihrab. The last of such reforms was carried out by Al-Mansur Ibn Abi Aamir in 987. It was connected to the Caliph's palace by a raised walk-way, mosques within the palaces being the tradition for previous Islamic rulers - with Christian Kings following suit and building their palaces adjacent to churches. The Mezquita reached its current dimensions in 987 with the completion of the outer naves and courtyard.

المنقب میں نصب عبدالرحمن اول کا مجسمہ

The Reconquista 


This painting by Edwin Lord Weeks (circa 1880) depicts an old Moor preaching the holy war against the Christians at the mosque in Spain.The Walters Art Museum.
In 1236, Córdoba was conquered by King Ferdinand III of Castile, and the mosque was converted into a Catholic church in its centre. Alfonso X oversaw the construction of the Villaviciosa Chapel and the Royal Chapel within the mosque. The kings who followed added further Christian features, such as King Henry IIrebuilding the chapel in the 14th century. The minaret of the mosque was also converted to the bell tower of the cathedral. It was adorned with Santiago de Compostela’s captured cathedral bells. 
The most significant alteration was the building of a Renaissance cathedral nave in the middle of the expansive structure. The insertion was constructed by permission of El Libertador Charles V, king of Castile and Aragon. However, when Charles V visited the completed cathedral he was displeased by the result and famously commented, "they have taken something unique in all the world and destroyed it to build something you can find in any city." 
The mosque's reconversion to a Catholic church, may have helped to preserve it when the Spanish Inquisition was most active .Artisans and architects continued to add to the existing structure until the late 18th century.

Saturday, August 30, 2014

جامع مسجد قرطبہ - Spain

اے حرم قرطبہ ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود
تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل ، تو بھی جلیل و جمیل
اقبال کی شہرہ آفاق نظم مسجد قرطبہ میں انہوں نے اس مسجد کی جو تصویر کھینچی ہے وہ دل کو چھو لینے والی اور ساتھ ہی دل کو چیر دینے والی ہے ۔ اقبال وہ پہلے شحض ہیں جنہوں نے کئی صدیوں بعد 1931ء میں اس مسجد میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کیا۔
یوں تو سر زمین اندلس پر مسلمانوں کے عہد زریں میں بہت سی دلکش و دلفریب عمارات تعمیر ہوئیں لیکن جو نفاست اور پاکیزگی جامع مسجد قرطبہ کے حصہ میں آئی وہ نہ تو الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعہ اظہار سے اس کے حسن و جمال ، تزئین و آرائش ، نسخی گل کاریوں اور پچی کاریوں کی تفصیل پیش کی جا سکتی ہے ۔ وہ ایسی چیز تھی جودیکھنے کی چیز تھی اور بار بار دیکھنے کی چیز تھی۔ اگرچہ گردش ایام کے تھپیڑوں نے اسے آج کچھ کا کچھ بنا دیا ہے لیکن پھر بھی اس کے حسن و خوبی اور جدت تعمیر و ندرت آرائش کے جو آثار زمانہ کی دستبرد سے بچ سکے ہیں اب بھی اپنے شاندار ماضی کی داستان زبان حال سے سناتے نظر آتے ہیں۔



اس مسجد کی تعمیر کا خیال امیر عبدالرحمن اول المعروف الداخل (756-788) کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر ہوا جب اس نے ایک طرف اندرونی شورشوں پر قابو پا لیا اور دوسری طرف بیرونی خطرات کے سد باب کا بھی مناسب بندوبست کر دیا۔ اس نے اپنی وفات سے صرف دو سال پہلے یہ کام شروع کرایا۔ امیر چاہتا تھا کہ مسجد کو اموی جامع مسجد دمشق کا ہم پلہ بنا کر اہل اندلس و مغرب کو ایک نیا مرکز عطا کرے ۔ یہی وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی اس نے خود کی۔
المنقب میں نصب عبدالرحمن اول کا مجسمہ

یہ عظیم مسجد وادی الکبیر (ہسپانوی: Guadalquivir)میں دریا پر بنائے گئے قدیم ترین پل(اس پل کو رومی Claudius Marcellus نے تعمیر کروایا تھا) کے قریب اس جگہ واقع ہے جہاں پہلے سینٹ ونسنٹ (St. Vincent of Saragossa) کی یاد میں تعمیر کردہ ایک گرجا قائم تھا اور جس کا ایک حصہ پہلے ہی سے بطور مسجد مسلمانوں کے زیر تصرف تھا (الرازی)۔ السمح بن مالک الخولانی کے عہد میں جب قرطبہ دارالسلطنت بنا تو مسلمانوں نے مسجد کی توسیع کے لئے عیسائیوں سے باقی ماندہ حصہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی مگر وہ مسلمانوں کی تمام تر رواداری کے باوجود اسے فروخت کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔ لیکن جبعبدالرحمن الداخل کا زمانہ آیا تو اس نے بہت بھاری قیمت ادا کرکے پورا گرجا خریدلیا۔ قبضہ حاصل کرلینے کے بعد 786ء میں امیر نے اسے گرا کر اس کی جگہ ایک دیدہ زیب مسجد کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ تعمیر کا کام جس ذوق و شوق سے شروع ہوا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر نے دو سال کی قلیل مدت میں اس مسجد کی تعمیر پر 80ہزار دینار خرچ کر دئے ۔
مسجد کی بیرونی چار دیواری اتنی بلند و بالا اور مضبوط تھی کہ وہ شہر کی فصیل نظر آتی تھی ۔ اس فصیل نما چاردیواری کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اس کے باہر کی جانب تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر پہل پشتیبان (Buttressess) بنائے گئے تھے جن پرکنگرے بنے ہوئے تھے۔

مسجد کی چھت بے شمار ستونوں پر قائم ہے جن کی ترتیب کچھ اس وضع پر ہے کہ ان کے تقاطع سے دونوں طرف کثرت سے متوازی راستے بن گئے ہیں ۔ ان ستونوں پر نہایت ہی پر تکلف نعلی محرابیں (Horseshoe Arches) قائم ہیں۔ یہ نعلی محرابیں نہ صرف اس عظیم مسجد کا وجہ امتیاز ہیں بلکہ ہسپانوی طرز تعمیر کی پہچان بن چکی ہیں ۔ جامع قرطبہ کے ان ستونوں پر دوہری محرابیں بنی ہوئی ہیں ۔ یعنی ایک محراب پر دوسری قائم کر کے انہیں چھت سے ملا دیا گیا ہے ۔ ان محرابوں پر کہیں کہیں قبےّ بنائے گئے تھے جن میں سے چند ایک ابھی تک باقی ہیں ۔ چھت زمین سے تیس فٹ کے قریب بلند تھی ۔ جس کی وجہ سے مسجد میں ہوا اور روشنی کا حصول آسان ہو گیا تھا۔ چھت پر دو سو اسی جگمگاتے ستارے بنائے گئے تھے ۔ جن میں سے اندرونی دالان کے ستارے خالص چاندی کے تھے ۔ اس کے علاوہ چھت مختلف چوبی پٹیوں (Panells) سے آراستہ تھی۔ ہر پٹی پر نقش ونگار کا انداز محتلف تھا ۔ مسجد کے وسط میں تانبے کا ایک بہت بڑا جھاڑ معلق تھا جس میں بیک وقت ہزار چراغ جلتے تھے۔ خاص دالان کے دروازہ پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جبکہ محراب اور اس سے متصل دیوار سونے کی تھی ۔ سنگ مر مر کے ستونوں پر سونے کے کام سے ان کی تزئین و آرائش کا کام نہایت نفاست سے کیا گیا تھا۔
عبد الرحمن الداخل کے بعد امیر ہشام اول (788-796)مسند امارت پر متمکن ہوا ۔ اس نے بھی اس مسجد کی تعمیر و توسیع کا کام جاری رکھا ۔ اس نے تو اپنے دور حکومت کے سات سالوں میں تمام مال غنیمت کا پانچواں حصہ مسجد کی تعمیر پر خرچ کیا۔ اس عظیم الشان مسجد کا وہ عظیم مینار جو چہار پہلو تھا اسی کے زمانے میں تعمیر ہوا۔ اس مینار کا شمار عجائبات عالم میں ہوتا تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس یکتائے زمانہ مسجد کی تکمیل پر ماہ و سال نہیں صدیاں خرچ ہوئیں ۔ ہر امیر نے اپنی بساط اور ذوق کے مطابق اس پر بے دریغ خرچ کیا۔ ہزاروں مزدوروں نے سینکڑوں معماروں کی معیت میں اس مسجد کی تعمیر و آرائش پر اپنا خون پسینہ ایک کیا تب جا کر اسے وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم عمارتوں کو حاصل ہے ۔
ذیل میں اس مسجد کے بعض اہم حصوں پر الگ الگ روشنی ڈالی گئی ہے ۔

اندلس (Spain) میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا عرصہ تقریباً سات سو برس پر محیط ہے ۔ جو آٹھویں صدی عیسوی میں جامع قرطبہ (ہسپانوی: Mezquita) کی تعمیر شروع کئے جانے سے لے کر پندرھویں صدی عیسوی میں غرناطہ کے قصر الحمراء کے مکمل ہونے کے زمانہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس دوران سینکڑوں عمارات مثلاً حمام ، محلات ، مساجد، مقابر ، درس گاہیں اور پل وغیرہ تعمیر ہوئے جن کی اگر تفصیل لکھی جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے ۔
اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں کے مسلمان حکمران اور عوام کی اکثریت پرانی ثقافت کی کورانہ تقلید کے قائل نہیں تھے ۔ بلکہ یہاں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا معاشرہ وجود میں آیا تھا۔ اس نئی تہذیب کے آثار ان کی تعمیر ات کے ہر انداز سے جھلکتے نظر آتے ہیں ۔
عرب فاتحین کا یہ قاعدہ رہا تھا کہ وہ جہاں کہیں فاتح بن کر جاتے وہاں کی علاقائی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیتے اور اپنی تعمیرات میں اس علاقہ کی طرز تعمیر کے خدو خال کو شامل کر لیتے ۔ چنانچہ سندھ سے لے کر مراکش تک کی تعمیرات میں عربوں کی یہ خصوصیت واضح طور پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ لیکن اندلس میں انہوں نے یکسر ایک نیا رویہ اپنایا اور ایک ایسی نئی طرز تعمیر کے موجد بنے جس میں عرب، ہسپانوی (Visigothic)، صیہونی، اور اندلس کی دیگر اقوام کی خصوصیات یکجا نظر آتی ہیں۔ ہم یہاں پر اسی طرز تعمیر کی زندہ مثال جامع مسجد قرطبہ کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔ اس مسجد کی طرز تعمیر میں قدیم اسلامی طرز تعمیر صیہونی اور عیسائی طرز تعمیر کے پہلو بہ پہلو ایک نئے امتزاج کے ساتھ ملتا ہے۔
مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت
دسمبر 2006ء میں اسپین کے مسلمانوں نے پوپ بینیڈکٹ سے اپیل کی کہ انہیں مسجد قرطبہ میں عبادت کی اجازت دی جائے۔ اسپین کے اسلامک بورڈ نے پوپ کے نام خط میں لکھا ہے کہ سپین کے کلیسا نے ان کی درخواست مستردکردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدس جگہ کی حوالگی کی درخواست نہیں بلکہ وہ تمام مذاہب کے ساتھ مل کر عبادت کر کے عیسائی دنیا میں ایک اچھوتی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دسمبر 2006ء کے اوائل میں ہسپانوی کیتھولک چرچ نے مسلمانوں کو جامع قرطبہ میں نماز کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس عبادت گاہ میں مشترکہ عبادت کیلئے دیگر مذاہب سے بات چیت کیلئے تیار نہیں۔ مسلم بورڈ کے جنرل سیکرٹری منصور ایکسڈیرو کے مطابق قبل ازیں سیکورٹی گارڈز نے اندرونی حصے میں پرانی مسجد میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رومن کیتھولک چرچ کے بعض عناصر اسپین میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ گرجا جو دنیا بھر میں مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے اور اسے دیکھنے کیلئے دنیا بھر کے مسلمان یہاں آتے ہیں۔


2010 incident 

In April 2010, two Muslim tourists were arrested at the Cathedral, after an incident in which two security guards were seriously injured. The incident occurred when the building was filled with tourists visiting the cathedral during Holy Week.[25][26]
According to cathedral authorities, when half a dozen Austrian Muslims, who were part of a group of 118 people on an organized tour for young European Muslims, knelt to pray at the same time, security guards stepped in and “invited them to continue with their tour or leave the building”.[25][26] A fight took place between two of the tourists and the security guards. The security guards suffered serious injuries and had to be hospitalized and two Muslim men were detained.[25][26][27]






ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن


حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوۓ سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ* کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے

مرزا اسداللہ خان غالبؔ

Thursday, August 28, 2014

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی ک

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا
انہیں کوئی کاش یہ بتا دے مقام اونچا ہے سادگی کا

اے دل کسی کی یاد میں۔۔۔ ہوتا ہے بے قرار کیوں



اے دل کسی کی یاد میں۔۔۔ ہوتا ہے بے قرار کیوں

جس نے بھلا دیا تجھے ۔۔۔اس کا ہے انتظار کیوں

وہ نہ ملے گا اب تجھے۔۔۔ جس کی تجھے تلاش ہے

راہوں میں آج بے کفن۔۔۔ تیری وفا کی لاش ہے

یہ تو ذرا بتا مجھے۔۔ تو نے کیا تھا پیار کیوں



اے دل کسی کی یاد میں۔۔۔ ہوتا ہے بے قرار کیوں



آنسو ہیں جو رکے ہوئے ۔۔ ہنس کے انہیں بہا بھی دے

جتنے ہیں داغ پیار کے۔۔ دھو کر انہیں مٹا بھی دے

تو نے ہے پھر بنا لیا ۔۔ غم کو گلے کا ہار کیوں



اے دل کسی کی یاد میں۔۔۔ ہوتا ہے بے قرار کیوں



آئے گی تجھ میں روشنی۔۔ اب نہ کسی کے نام سے

تو وہ دیا ہے میرے دل۔۔ جو کہ بجھا ہو شام سے

ٹوٹے کی پھر کوئی کرن۔۔ تجھ کو ہے اعتبار کیوں



اے دل کسی کی یاد میں۔۔۔ ہوتا ہے بے قرار کیوں

جس نے بھلا دیا تجھے ۔۔۔اس کا ہے انتظار کیوں






Saleem Raza

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں


کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں
پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
تا دیر اسے دہرائیں کیا

وہ زہر جو دل میں اتار لیا
پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا

اک آگ غمِ تنہائی کی 
جو سارے بدن میں پھیل گئی

جب جسم ہی سارا جلتا ہو
پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

بے جذبئہ شوق سنائیں کیا
کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں
پھر سچا شعر سنائیں کیا


وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
اب اس کا حال بتائیں کیا
URL:

http://youtu.be/9EljixrFh04?list=RDijm1kXQPJG4





Wednesday, August 27, 2014

Airline of the Year 2014




WORLD AIRLINE AWARDS
Airline of the Year 2014

1   Cathay Pacific Airways
2   Qatar Airways
3   Singapore Airlines
4   Emirates
5   Turkish Airlines
6   ANA All Nippon Airways
7   Garuda Indonesia
8   Asiana Airlines
9   Etihad Airways
10   Lufthansa

Next


Tuesday, August 26, 2014

Between 1962 - 1978, PIA was continuously placed on various top 10 Best Airlines of the World lists.



Cover of a 1972 PIA Wine & Spirits menu.
Between 1962 and 1978, PIA was continuously placed on various 10 Best Airlines of the World lists.
PIA was also one the first airlines to introduce in-flight entertainment and also famous for having one of the widest varieties of dishes and alcoholic beverages on offer.
Today however, PIA is largely a bankrupt enterprise.

 

A 1964 PIA press ad featuring famous Hollywood comedian and actor Bob Hope.
A 1964 PIA press ad featuring famous Hollywood comedian and actor Bob Hope.
PIA was one of the first airlines in the world to introduce in-flight entertainment. It regularly featured in all the prestigious top-10-airline lists for over 20 years, before dropping out in the mid-1980s.



Ava Gardner and Stewart Granger at Lahore Airport.
Famous Hollywood stars Ava Gardner and Stewart Granger arrive at Lahore Airport, 1954. The actors arrived in Lahore with a full filming crew to shoot a major portion of the film ‘Bhowani Junction.’

A 1974 press ad of Red & White cigarettes. Just like in other airports of the world at the time, smoking was allowed in all areas of Pakistani airports as well.
A 1974 press ad of Red & White cigarettes. Just like in other airports of the world at the time, smoking was allowed in all areas of Pakistani airports as well. The shoot for this ad took place at the old Karachi Airport that worked as a hub in the region and was one of the busiest airports in Asia receiving up to 60 flights in an hour from around the world.
The man is sitting at a famous waiting lounge/restaurant at the airport (Sky Grill) that also had a full bar and was the only place at the airport that was centrally air-conditioned.