Monday, November 30, 2015

Shadow


Valentines Gift Box Handmade craft

With the free printable, scissors and double-sided tape (and a few sweets), your Valentines will feel the love for sure.

Handmade crafts

Let’s get to making these cute things!
Print & Fold Schoolhouse Gift Box. Free Printable!  |  Design Mom
Supplies:
- Printable school house template — download for free: white, red or yellow
- Scissors
- Cutting blade
- Double-sided tape
- Ruler & scoring tool

Sunday, November 01, 2015

Me


I am incredibly wise and perceptive. I have a lot of life experience.

I am a natural peacemaker, and I am especially good at helping others get along.

But keeping the peace in my own life is not easy. I see things very differently, and it's hard to get I to budge.

I am friendly, charming, and warm. I get along with almost everyone.

I work hard not to rock the boat. my easy going attitude brings people together.

At times, I can be a little flaky  . But for the important things, I pull it together.

Monday, August 17, 2015

وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ چل


 وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ چل
وقت سے کون کہے یار
ذرا آہستہ چل
گر نہیں وصل تو یہ خوابِ رفاقت ہی ذرا دیر رہے
وقفئہ خواب کے پابند ہیں
جہاں تک ہم ہیں
یہ جو ٹوٹا تو بکھر جائیں گے سارے منظر
(تیرگی ذاد کو سورج ہے فنا کی تعلیم)
ہست اور نیست کے مابین اگر
خواب کا پل نہ رہے
کچھ نہ رہے
وقت سے کون کہے
یار ذرا آہستہ چل

امجد اسلام امجد

زندگی کے میلے میں

زندگی کے میلے میں
خواہشوں کے ریلے میں

تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں

وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے

سخت بے زمینی ہے،
سخت لامکانی ہے

ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی

ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے

بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے

عمر بھر کی باتیں کب
دو گھڑی میں ہوتی ہیں

درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں،

بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں

تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے

بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں

چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ

ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے،

بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو

بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں

گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو

اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے
خواب مرتے نہیں

خواب تو روشنی ہیں، نوَا ہیں، ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں سے بھی پھُکتے نہیں
روشنی اور نوَا اور ہوا کے علَم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھُکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نُور ہیں
خواب سُقراط ہیں
خواب منصور ہیں

 

Sunday, August 16, 2015

محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے

محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو ہماری یاد کوبھی ساتھ لے لینا سنا ہے اس جزیرے پر کبھی دو ہنس رہتے تھے وہ دونوں ایک دوجے کے دلوں پر راج کرتے تھے وہ اک دوجے کی آنکھوں میں اُترکر خواب چُنتے تھے وفا کے تانے بانے ریشمی باتوں سے بُنتے تھے پھر اس کی روز ہی تجدیدبھی کرتے مگر رُت کے بدلتے ہی ہوا ایسے وہ دونوں مختلف سمتوں میں چل نکلے سُنا ھےپھر کبھی اک ساتھ دونوں کو نہیں دیکھا محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو تواس تنہا شجر کے پاس بھی جانا کہ جس کی ساری شاخوں کے لبادے پر، ہر اک جانب کسی کا نام لکھّا ہے سنا ہے لکھنے والا ،زندگی بھر پھر کبھی کچھ لکھ نہیں پایا وہ اپنی انگلیوں پر خون کی مہریں لگا بیٹھا مقدّر دار کر بیٹھا ۔۔۔وہ خود کو ہار کر،بیٹھا محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے وہاں جانا پڑے تم کو ہماری یاد کو بھی ساتھ لے لینا ہماری یاد تپتی دھوپ میں چھاؤں کی صورت ہے یہ ماضی کے کسی معصوم سے گاؤں کی صورت ہے

Thursday, August 13, 2015

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر


باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

روزِ حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

 کلام  اقبال صاحب 

Wednesday, August 12, 2015

کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں

سمندر کا تماشا کر رہا ہوں
میں ساحل ہو کے پیاسا مر رہا ہوں

اگرچہ دل میں صحرا کی تپش ہے
مگر میں ڈُوبنے سے ڈر رہا ہوں

میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر
شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں

قفس میں مجھ پہ جو بیتی سو بیتی
چمن میں بھی شکستہ پر رہا ہوں

اُٹھے گا حشر کیا محشر میں مجھ پر
میں خود ہنگامہِ محشر رہا ہوں

کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں
میں سچائی کی خاطر مر رہا ہوں

وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
میں جس پتھر کو سجدے کر رہا ہوں

مری گردش میں ہر سازِ الم ہے
جہانِ درد کا محور رہا ہوں

بنائی جو مرے دستِ ہنر نے
اُسی تصویر سے اب ڈر رہا ہوں

تراشے شہر میں نے بخش کیا کیا
مگر میں خود سدا بے گھر رہا ہوں

بخش لائلپوری​