Sunday, May 11, 2014

کرو، جو بات کرنی ہے


کرو، جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
کرو، جو بات کرنی ہے

Thursday, May 08, 2014

گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا -

گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا -
 اور اگر آ بھی جاے تو پہلے کی ترھا نہیں ہوتا -

Wednesday, May 07, 2014

Rain, Rain, Rain…….and Rain!!


ساتھ دل کے چلے دل کو نہیں روکا ہم نے


ساتھ دل کے چلے دل کو نہیں روکا ہم نے
جو نہ اپنا تھا اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے


ایک دھوکے میں‌ کٹی عمر ہماری ساری
کیا بتایئں کیسے کھویا کسے پایا ہم نے

Tuesday, May 06, 2014

شیشے کا سمندر ، پانی کی دیواریں

 
شیشے کا سمندر ، پانی  کی  دیواریں
اس دونیا میں جو بھی گیا وہ تو گیا

برف کی ریتوں پہ شہروں کا ٹھکانہ
گرم صحراؤں میں نرمیوں کا فسانہ

 یادوں کا  آئینہ ٹوٹتا ہے جہاں
سچ کی پرچھایاں ہر جگا آتی ہیں نظر
 
سونے کے ہیں بادل ، پتھروں کی بارش
 مایا ہے بھرم کی یہ محبت کی دونیا
اس دونیا میں جو بھی ہی وہ تو گیا
 
دل کی اس دونیا میں ، سرحدیں ہوتی نہیں
درد بھری آنکھوں میں ، راحتیں ہوتی نہیں
 
جتنے احساس ہیں ، اد بوجھی پیاس ہے
زندگی کا  فلسفہ ، دھوپ کی ہوائیں
، کانٹوں کے بگچے
 مایا ہے بھرم کی یہ محبت کی دونیا 
اس دونیا میں جو بھی ہی وہ تو گیا
 

Monday, May 05, 2014

عقل کی چھتری

"محبت کی بارش میں عقل کی چھتری ساتھ ہو تو انسان ہر طوفانی بارش  کا سامنا اعتماد سے کرسکتا ہے"

دل ،دریا سمندر

  ہم اپنے بننے والے نئے رشتوں میں محبت کی جھلک ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اورتھکن ہماری رگوں میں یوں اترتی چلی جاتی ہے کہ سیراب ہو کر بھی تشنگی کا احساس کم نہیں ہوتا۔ شروع میں بہت محسوس ہوا پھر سمجھ آیا کہ محبت ایسی چیز نہیں کہ جسے دینا ہمارے اختیار میں ہو ۔ یہ ہمارا وہ حق ہے جسے مانگنے کا ہم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ 

محبت صرف ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی ۔ یہ لین دین کا رشتہ  ہے ہی نہیں اورزندگی میں جو نئے رشتے بنتے ہیں وہ صرف لین دین ہی کے بنتے ہیں بلکہ صرف دینے کے جتنا دیتے جاؤ کم ہے اور بدلے میں ذرہ بھی مل جائے تو بہت ہے ورنہ بیگار ہی زندگی کہانی  کا حاصل ٹھہرتی ہے

دل ،دریا سمندر

فقط بیس روپے

ہم الله تعالیٰ کی جس رحمت اور جس کرم کو قبلوں اور کعبوں میں تلاش کرتے رہتے ہیں، الله کی وہ رحمت اور وہ کرم اس کے بندوں کی چھوٹی چھوٹی امیدوں اور چھوٹی چھوٹی حسرتوں میں چھپی رہتی ہے ۔ مجھے محسوس ہوا خدا تک پہنچنے کے تمام راستے اس کی مظلوم، بے بس اور نادار مخلوق کے دل سے گزرتےہیں ۔ اور یہ راستے کبھی فقط بیس روپے اور کبھی پانی کے ایک گلاس کے عوض کھل جاتے ہیں- مجھے محسوس ہوا خدا ہمیشہ چھوٹے لوگوں کے دلوں میں رہتا ہےاور جب تک ہم ان لوگوں کے دلوں پر دستک نہیں دیتے اور جب تک ان کا لوگوں کا دل ہمارے لئے نہیں کھلتا اس وقت تک ہم الله تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتے -

اعتبار اور اعتماد کی دولت

عورت کی یہی ٹریجڈی ھے ، وہ مرد کو اعتبار اور اعتماد کی دولت سے نوازتی رھتی ھے ،مگر اپنے اندر وہ نہایت کمزور اور بے یقین ھوتی ھے ،دراصل عورت کے اندر جو اعتماد ھوتا ھے نا وہ اسے کام میں لانے کا قرینہ نہیں جانتی ،اسی لیئے وہ اپنا سارا اعتماد مرد کو بخش کر اس سے توقع رکھتی ھے کہ وہ اس اعتماد کے سہارے عورت کو تحفظ فراہم کرے


ناول : محبتیں ادھوری سی

محمد ظہیر بدر

Saturday, May 03, 2014

Unending love

I seem to have loved you in numberless forms, numberless times…
In life after life, in age after age, forever.
My spellbound heart has made and remade the necklace of songs,
That you take as a gift, wear round your neck in your many forms,
In life after life, in age after age, forever.

Whenever I hear old chronicles of love, it’s age old pain,
It’s ancient tale of being apart or together.
As I stare on and on into the past, in the end you emerge,
Clad in the light of a pole-star, piercing the darkness of time.
You become an image of what is remembered forever.

You and I have floated here on the stream that brings from the fount.
At the heart of time, love of one for another.
We have played along side millions of lovers,
Shared in the same shy sweetness of meeting,
the distressful tears of farewell,
Old love but in shapes that renew and renew forever.

Today it is heaped at your feet, it has found its end in you
The love of all man’s days both past and forever:
Universal joy, universal sorrow, universal life.
The memories of all loves merging with this one love of ours -
And the songs of every poet past and forever.

~by Rabindranath Tagore