Monday, April 14, 2014

تب خھاک مزہ تھا جینے میں

جب درد نہیں تھا سینے میں
تب خھاک مزہ تھا جینے میں


نہ ھنسنا میرے غم پہ انصاف کرنا جو میں رو پڑوں تو مجھے معاف کرنا
جب درد نہیں تھا سینے میں تب خھاک مزہ تھا جینے میں
اب کے شاید ہم بھی روئے ساون کے مہینے میں
یاروں کا غم کیا ہوتا ہیں معلوم نہ تھا انجانوں کو
ساحل پہ کھڑے ہو کر ہم نے دیکھا اکژ طوفانوں کو
اب کے شاید ہم بے ڈوبے موجوں کے سفینے میں
جب درد نہیں تھا سینے میں

Thursday, April 10, 2014

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ __ ﺁﮨﭧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ - ﺁﭖ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ
ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﻮ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎﮬﮯ

Wednesday, April 09, 2014

سمندر

سمندر میں یہ ہی خاص بات ہے . کے یہ کچھ بھی جھوٹ نہیں - جو نظر آ رہا ہے وہ  ہی ہے ، صاف چمکدار
ہم اپنی زندگی میں اتنا مصروف ہوتے ہیں کے اسے ہی سچ سمھجہ لیتے ہیں -  لیکن  جھوٹ ہوتا ہے سب -
ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کے  اس پاس کچھ نظر نہیں آتا ، سب کچھ دھندلہ اور آنکھوں سے اوجھل ہوتا لگتا ہے - اور زندگی میں کوئی امید باقی نہیں رہتی - اس وقت ہی سمھج آتا ہے کے ہم نے کیا کچھ کھو دیا - احساس ہوتا ہے ، کیا کچھ تھا جو رہ گیا ہے - لیکن تب تک بہت دیرہو  چوکی ہوتی ہے

پھر ایک نیا سورج نکلتا ہے -  جس میں نیی امیدیں ہوتی ہیں ،
اور پھر ان امیدوں کو ہم اپنی زندگی بنا لیتے ہیں - جینا مجبوری بن جاتا ہے -  

Tuesday, April 08, 2014

ہر شخص کی یہی مجبوری ہے

ہر شخص کی یہی مجبوری ہے کہ وہ ساری عمر ایک ہی سزا نہیں بھگت سکتا، 
 یا ایک ہی خوشی کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔
 پھانسی کے تختے سے اتر کر بجلی کی کرسی پر بیٹھنا، بجلی کی کرسی سے اٹھ کر صلیب پر چڑھنا، تہہ آب ہونا اور نہ مرنا۔ پانی کی گہرائیوں سے نکل کر سرِ کوہسارے سے چھلانگ لگانا۔ ۔ ۔ ہم سب ایک کرب سے نکل کر دوسری تکلیف کے حوالے ہونا چاہتے ہیں، ایک خوشی سے منہ موڑ کر دوسری خوشی میں ڈوبنا چاہتے ہیں۔ یہ انسان کےلیے اتنا ہی نیچرل ہے جیسے وہ ایک ٹانگ پر ہمیشہ کے لیے کھڑا نہ رہ سکے۔ ۔ ۔

بارش کا پانی

لوگوں کے لئے وہ باہر بہتی بارش کا پانی تھا جس نے میرے گال بھگو دیئے تھے ـ اچھا ہی ہے کہ قدرت نے بارش کے پانی یا آنسوؤں میں سے کسی ایک کا رنگ جدا تخلیق نہیں کیا تھا ورنہ شاید میرے لئے جواب دینا مشکل ہو جاتاـ کاش سبھی رونے والوں کے سروں پر کوئی بادل آ کر برس جایا کرتا تو ہم میں سے بہتوں کا بھرم باقی رہ جاتاـ

محبت لین دین نہیں صرف دین ہے


میری دانست میں محبت کوئی شرط نہیں ہوتی، محبت صرف کی جاتی ہے، چاہے دوسرا کرے نہ کرے- محبت ایک ہاتھ کی تالی ہے اس میں نہ شکوے کی گنجائش ہے نہ شکایت کی- نہ وفا کی شرط ہے نہ بے وفائی کا گلہ-
محبت لین دین نہیں صرف دین ہے---

Monday, April 07, 2014

کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا -

کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا -
انسان کو اکیلے رہنے کی عادت ڈالنی چاہے -
میل میلاب ، رشتے ، ناتے ، دوستی یہ سب بہت تکلف دیتے ہیں -

محبت کبھی تکلف نہیں دیتی ، دیتی ہیں تو یہ صرف انسان کی -- Expectations 
تکلف دیتی ہیں -
ہم نہ جانے کیون لوگوں کو ایسا ہی سمھجہ  لیتے ہیں ، جیسا ہم انہیں دکھنا چاہتے ہیں -
اور شید یا ہی سب سے زدہ خطرناک ہے -

 

Sunday, April 06, 2014

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد


پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبُے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے
اَن کہی ہی رہ گئ وہ بات سب باتوں‌ کے بعد


فیض احمد فیض

یہاں ہر موڑ پہ ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر موڑ پہ ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں
جو اندر تک اترتے ہیں

ابد تک ساتھ رہنے کی
اکھٹے درد سہنے کی
ہمیشہ بات کرتے ہیں

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر شخص مطلب کی
حدوں تک ساتھ چلتا ہے
جونہی موسم بدلتا ہے
محبت کے سبھی دعوے
سبھی قسمیں
سبھی وعدے
سبھی رسمیں
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں

اسے کہنا
یہ دنیا ہے